Google CEO Sundar Pichai Life Story

26

Google CEO Sundar Pichai Life Story

google-ceo

اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو “سندرراجن پچائی” ہیں ۔ جن کا تعلق بھارت سے ہے

The chief executive of Google, “Pichai sndrrajn“. Those from India. His annual salary is worth more than 2 billion Pakistani rupees. That the employee is currently the highest paid in the world. Let friends to provide some information about them hyn.kh to sit on the mat in a two bedroom house reading a person like Google CEO.
Sundar Pichai resident of Tamil Nadu Madurai city that was born 12 July 1972 hua.as eye opening ‘father rgunath Pichai Electrical Engineer poverty but family income was very limited, two-bedroom house, flat, flat this was the floor abode drawing room, he was tired of reading, they read was sitting spread mats on the floor, he was asleep on a tech head to the floor to deal with the market with the “mother” of the street drive the children to dry up the water fill, wire taps download and play cricket in the street was his responsibility ‘home to protect poultry and out of sight of the enemy, their eggs or who in his duty to the city things get cheaper to place this search was his duty and his father was holding its own jhrkyan food the mother, the home telephone when he was twelve years, increase the phone’s work he “became the message of this whole block of flats, they had left a message for the other flats by calling the house block and they had to run up to convey” the young man to the television and the car’s blessing it could lose the “buy this Dad the whole life, but she was not only and the world’s largest organization Google CEO, but he was also an employee of the highest salaries in the world, the annual salary of 20 million dollars was fixed.
As a child he lived other shoes’ third-shirts and craved for the fourth pan over the years, so my childhood was not a child when she was remembered today as a dark story was “Pichai deprivation stand Stanford University sent him air tickets his father was surprised to see tickets, tickets his father was costly in annual revenue, he reads the prayer books of the course was too long and had completed their assignments Recycle paper he I travel by buses and just hanging with sweet fortune religious festivals thy’as went after the Indian Institute of technology kragpur grab grab him by the twelfth grade Chennai, he, he can read there tyusnz Lee metallurgical engineering degree, he holds the top was the position then the largest university of technology in the world styndfurd went to her stipend given the United States’ she MS in Metallurgical engineering from styndfurd University he was part of to great engineering was the 2004 when Jobs Exit Google he applied Google gave him a job in the engineering department, the job was good for this place, beautiful Rajan Pichai unit launched “project Google Chrome” What this project is completed in 2008 and the same Pichai, Google and became famous in the US “it’s mind was fertile and he makes new plans for Google, Google’s web browser “ayndruyd or Google Toolbar, desktop search and Google Gears, all Project Sunder Rajan Pichai completed, increasing Google’s revenue in projects that Google is the world’s richest company is worth $ 554 billion it is compared to the annual revenue of $ 74 billion, Pakistan’s total foreign debt of $ 70 billion, though Google earns more money than the total debt of the world’s only Islamic nuclear power in a year, two students Company styndfurd University students Larry Page and srjy Byrne 1996 began, both at work to distribute the content categories HD students’ Google aims Internet and to make it easier for people Google 2000 until the world’s most reliable search keeps search engines became, the company’s new talent from around the world, beautiful Rajan Pichai also had discovered this young in Tamil in Tamil Nadu 1972 it reached 1993 styndfurd University 1995-96ءmyn MS and 2002 MBA What I wanted to do something in life and Google gave it the opportunity to do it a lot, it was a place very soon the company through their interesting ideas, it’s a fast-growing former 10 August 2015 on Google he is also CEO Larry Page became deputy company share it, it also owns shares of the $ 60 million to 50 million.
Google’s Pichai in February 2016 the second week of the 19 million to 90 million dollars only salary, Pichai check it receiving the ISO is the world’s highest paid to the “CE” If we change them in ways that studied two hundred million will be worth as Tamil is a poor man years two hundred million salary Nadu 43 years old and poor that he sat on the floor until the age of 18, and the floor and 12 the age of the telephone and the United States was about to come out of the television and car and that the child other shoes’ third-shirts and had longed for a fourth pan and speaks English accented Hindi today and because of his wheat color is recognizable from a distance.

اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو “سندرراجن پچائی” ہیں ۔ جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں ۔ آئیے ان کے بارے میں دوستوں کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔کہ ایک دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا شخص کس طرح گوگل کا سی ای او بنا ۔
سندر پچائی تامل ناڈو کے شہر مدورائی کا رہنے والا تھا جو کہ 12 جولائی 1972 کا پیدا ہوا۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی‘ والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی‘ گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا‘ اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا‘ وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا‘ وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا‘ ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا‘ گلی کے نلکے سے پانی بھرنا‘ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے‘ یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا‘ اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا‘ وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغام بر بن گیا‘ لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کےلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کےلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا‘ وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا‘ اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او تھا بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی تھا‘ اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی تھی۔
بچپن میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کےلئے ترستا رہتا تھا‘ وہ بچپن‘ بچپن نہیں تھا‘ وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی‘ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا‘ اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنی اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا‘ وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی‘اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی‘ وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا‘ اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی‘ اس نے یہ ڈگری ٹاپ پوزیشن میں حاصل کی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی سٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا‘ وہ امریکا چلا گیا‘ اس نے سٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا‘ وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا‘ 2004ءمیں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا‘ گوگل نے اسے پراجیکٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی‘ یہ ملازمت اس کےلئے نعمت ثابت ہوئی‘ سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ”گوگل کروم“ کا منصوبہ شروع کیا‘ یہ منصوبہ 2008ءمیں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکا دونوں میں مشہور ہو گیا‘ اس کا دماغ ذرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کےلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا‘ گوگل کا ویب براؤزر ہو‘ اینڈروئڈ ہو یا گوگل ٹول بار‘ ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے‘ ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا‘ گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے‘ اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے‘ پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں‘ گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے‘ یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ءمیں شروع کی‘ یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے‘ گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کےلئے آسان بنانا تھا‘ گوگل 2000ءتک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا‘ یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے‘ سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا‘ یہ نوجوان 1972ءمیں تامل ناڈو میں پیدا ہوا‘ یہ 1993ءمیں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا‘ 1995-96ءمیں ایم ایس اور 2002ءمیں ایم بی اے کیا‘ یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا‘ یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10 اگست 2015ءکو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا‘ کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے‘ یہ اس وقت 60 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔
گوگل نے پچائی کو فروری 2016ءکے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا‘ پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ”سی ای او“ بن گیا‘ ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43 برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12 سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکا آنے تک ٹیلی ویژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے ۔