Jelly fish in Pakistani waters WWF

19

Jelly fish in Pakistani waters WWF

Jelly fish in Pakistani waters WWF

jellyfish are growing concerned local fishermen hard numbers when they go fishing in the sea to fish, instead of selling the jellyfish are caught in their net.
Such numbers are estimated ignorance of WWF Pakistan Pakistan’s marine environment was evident from the statement noted that the jellyfish are very rarely seen in the sea. Although marine life in Pakistani waters (marine life) assessments of the already known fact that the most vulnerable to the fish and the fish as a result of climate change have been greatly reduced, while the opposite Jelly Fish the number is constantly growing, which is a serious threat to the marine environment.
Marine life experts will halt the ban on fishing with small nets and large ships that have been constantly warned Pakistan’s oceans over the past 20 years or even local fishermen fish will be eliminated and business.
The various foreign companies are widely allowed to reign in Pakistan’s territorial waters, the fishing of large ships being used fine nets for the purpose of killing caught the fish small child.

پاکستان کے سمندری ماحول سے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی لاعلمی کا اندازہ اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جیلی فش کی اتنی بڑی تعداد بہت کم ہی پاکستانی سمندر میں دیکھی جاتی ہے۔ حالانکہ پاکستانی سمندری حدود میں بحری حیات (میرین لائف) کے جائزوں میں یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ مچھلیوں کے حد سے زیادہ شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہاں عام مچھلیاں بہت کم رہ گئی ہیں جب کہ ان کے برعکس جیلی فش کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے جو سمندری ماحول کے لیے شدید خطرہ ہے۔

بحری حیات کے ماہرین پچھلے 20 سال سے مسلسل خبردار کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان کے سمندروں میں باریک جالوں اور بڑے بحری جہازوں سے مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگائی جائے ورنہ یہاں مچھلیاں بالکل ختم ہوجائیں گی اور مقامی ماہی گیروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ مختلف غیرملکی کمپنیاں پاکستان کی سمندری حدود میں حکومت کی اجازت سے وسیع پیمانے پر، بڑے جہازوں کے ذریعے مچھلیاں پکڑتی ہیں اور اس مقصد کے لیے باریک جال استعمال کیا جاتا ہے جس میں مچھلیوں کے چھوٹے بچے بھی پھنس کر ہلاک ہوجاتے ہیں

Post Source : – http://www.express.pk/story/691246/