Participants sit in Islamabad and security forces face, injured by shelling

49

اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا اور سکیورٹی فورسز آمنے سامنے،شیلنگ سے متعدد افراد زخمی

Participants sit in Islamabad and security forces face, injured by shelling

August 30, 11:50pm

At least 79 people, including five policemen, have been injured. The majority have head injuries and injuries from tear gas shelling, our correspondent Sehrish Wasif reports.

Dr Khurram confirms that 60 injured have been brought to Polyclinic hospital while Amna Isani, spokesperson PIMS, confirms 19 injured are being treated at the hospital.

اسلام آباد: تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان وزیراعظم ہاؤس کی جانب روانہ ہوگئے جہاں کارکنان کی جانب سے ایوان صدر میں گھسنے کی کوشش کی گئی جس پر سکیورٹی فورسز نے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے کارکنان کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف جانے کا حکم دیا گیا جہاں دونوں جماعتوں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے مطابق دھرنا دینا تھا جبکہ اس موقع پر عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری کی جانب سے اپنے کارکنان کو مکمل طور پر پر امن رہنے اور کسی بھی قسم کا تشدد یا انتشار کا راستہ اختیار نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انتظامیہ کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر حساس عمارتوں کی جانب جانے والے راستوں پر کنٹینر لگا کر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جنہوں نے مظاہرین کے مارچ کے دوران پوزیشنیں لے لیں اس دوران مظاہرین کی بڑی تعداد نے ایوان صدر میں گھسنے کی کوشش کی جس پر ریڈ زون میں تعینات پولیس، رینجرز اور ایف سی نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور ان پر شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے کنٹینر ہٹانے والی کرین کو بھی قبضے میں لے کر اس کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے، مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا اور ریڈ زون میں موجود درختوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان مزاحمت کے بعد عمران خان کے ٹرک اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی گاڑی کو پیچھے ہی روک لیا گیا جبکہ پولیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین بھی پارلیمنٹ ہاؤس کی واپس چلے گئے۔

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے بیان جاری  کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حتمی حد عبور کرنے پر ریاست کی عملدراری قائم کی جائے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مجاہد شیر دل نے بھی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کو ریڈ لائن میں داخل ہونے سے ہر صورت روکا جائے جس کے لیے شیلنگ سمیت ہر اقدام کیا جائے۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی اس دوران موقع پر پہنچ کر ریڈ زون کی سکیورٹی کا جائزہ لیا، میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ایک گروہ نے اپنی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کے باوجودقانون کی خلاف ورزی کی اور اہم ترین عمارتوں پر قبضہ کرنا چاہا لیکن سکیورٹی فورسز اور ہم نے آئین وقانون کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

اسلام آباد: تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان وزیراعظم ہاؤس کی جانب روانہ ہوگئے جہاں کارکنان کی جانب سے ایوان صدر میں گھسنے کی کوشش کی گئی جس پر سکیورٹی فورسز نے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے قائدین عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب سے کارکنان کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف جانے کا حکم دیا گیا جہاں دونوں جماعتوں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے مطابق دھرنا دینا تھا جبکہ اس موقع پر عمران خان اور ڈاکٹرطاہرالقادری کی جانب your workers fully to peace and any kind of violence or disruption to the way it was directed.
انتظامیہ کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر حساس عمارتوں کی جانب جانے والے راستوں پر کنٹینر لگا کر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جنہوں نے مظاہرین کے مارچ کے دوران پوزیشنیں لے لیں اس دوران مظاہرین کی بڑی تعداد نے ایوان صدر میں گھسنے کیکوشش کی جس پر ریڈ زون میں تعینات پولیس، رینجرز اور ایف سی نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور ان پر شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے کنٹینر a crane lifting confiscated his driver arrested, protesters threw stones at the police and set fire to the red zone in the trees.
پولیس اور مظاہرین کے درمیان مزاحمت کے بعد عمران خان کے ٹرک اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی گاڑی کو پیچھے ہی روک لیا گیا جبکہ پولیس کی شیلنگ کے باعث مظاہرین بھی پارلیمنٹ ہاؤس کی واپس چلے گئے۔
دوسری جانب حکومتی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور حتمی حد عبور کرنے پر ریاست کی عملدراری قائم کی جائے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مجاہد شیر دل نے بھی ہدایت جاری کرتے ہوئے the protesters from entering the Red Line, which would be the case for each and every step to shelling.
وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی اس دوران موقع پر پہنچ کر ریڈ زون کی سکیورٹی کا جائزہ لیا، میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ایک گروہ نے اپنی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کے باوجودقانون کی خلاف ورزی کی اور اہم ترین but the security forces tried to take over the buildings and we have sworn to uphold the constitution and order.

 

Facebook Comments