Stephen Hawking is the greatest scientist in the world

0
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

Stephen Hawking is the greatest scientist in the world

Stephen Hawking is the greatest scientist in the world

سٹیفن ہاکنگ اس وقت آئین سٹائن کے بعد دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان ہے

سٹیفن ہاکنگ اس وقت آئین سٹائن کے بعد دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان ہے‘
اسے دنیا کا سب سے ذہین شخص بھی کہا جاتا ہے
‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا‘ یہ کائنات ابھی نا مکمل ہے اور دنیا میں روزانہ نئے سیارے جنم لے رہے ہیں۔
قرآن کی اس تھیوری کو سٹیفن ہاکنگ نے ثابت کیا تھا۔
اس نے کائنات میں ایک ایسا ”بلیک ہول“ دریافت کیا جس سے روزانہ نئے نئے سیارے جنم لے رہے ہیں‘
اس نے اس بلیک ہول میں ایسی شعاعیں بھی دریافت کیں جو کائنات میں بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہیں‘ یہ شعاعیں سٹیفن ہاکنگ کی مناسبت سے ”ہاکنگ ریڈایشن“ کہلاتی ہیں‘
وہ فزکس اور ریاضی کا ایکسپرٹ ہے اور دنیا کے تمام بڑے سائنسدان اسے اپنا گرو سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کی زندگی کا محض ایک پہلو ہے‘
اس کا اصل کمال اس کی بیماری ہے‘ وہ ایم ایس سی تک ایک عام درمیانے درجے کا طالب علم تھا‘ اسے کھیلنے کودنے کا شوق تھا‘ وہ سائیکل چلاتا تھا‘ فٹ بال کھیلتا تھا‘ کشتی رانی کے مقابلوں میں حصہ لیتا تھا اور روزانہ پانچ کلومیٹر دوڑ لگاتا تھا۔ وہ 1963ءمیں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا‘
وہ ایک دن سیڑھیوں سے نیچے پھسل گیا‘ اسے ہسپتال لے جایا گیا وہاں اس کا طبی معائنہ ہوا تو پتہ چلا وہ دنیا کی پیچیدہ ترین بیماری ”موٹر نیوران ڈزیز“ میں مبتلا ہے‘ یہ بیماری طبی زبان میں ”اے ایل ایس“ کہلاتی ہے۔
اس بیماری کا دل سے تعلق ہوتا ہے ‘ہمارے دل پر چھوٹے چھوٹے عضلات ہوتے ہیں‘ یہ عضلات ہمارے جسم کو کنٹرول کرتے ہیں‘ اس بیماری کے انکشاف سے پہلے سائنسدان دماغ کو انسانی جسم کا ڈرائیور سمجھتے تھے لیکن بیسویں صدی کے شروع میں جب ”اے ایل ایس“ کا پہلا مریض سامنے آیا تو پتہ چلا انسانی زندگی کا مرکز دماغ نہیں بلکہ قلب ہے اوردنیا کے تمام مذہب ٹھیک کہتے تھے انسان کو دماغ کی بجائے دل پر توجہ دینی چاہئے۔
دل کے یہ عضلات ”موٹرز“ کہلاتے ہیں‘ اگر یہ ”موٹرز“ مرنا شروع ہو جائیں تو انسان کے تمام اعضا ءایک ایک کر کے ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں اور انسان خود کو آہستہ آہستہ مرتے دیکھتا ہے۔ اے ایل ایس کے مریض کی زندگی دو سے تین سال کی مہمان ہوتی ہے ‘ دنیا میں ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔
سٹیفن ہاکنگ 21سال کی عمر میں اس بیماری کا شکار ہوا تھا‘ سب سے پہلے اس کے ہاتھ کی انگلیاں مفلوج ہوئیں‘ پھر اس کے ہاتھ‘ پھر اس کے بازو‘ پھر اس کا بالائی دھڑ‘ پھر اس کے پاﺅں‘ پھر اس کی ٹانگیں اور آخر میں اس کی زبان بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔
یوں وہ 1965ءمیں ویل چیئر تک محدود ہو گیا‘ پھر اس کی گردن دائیں جانب ڈھلکی اور دوبارہ سیدھی نہ ہو سکی۔ وہ 1974ءتک خوراک اور واش روم کیلئے بھی دوسروں کا محتاج ہو گیا۔
آج اس کے پورے جسم میں صرف پلکوںمیں زندگی موجودہے ‘ یہ صرف پلکیں ہلا سکتا ہے‘ ڈاکٹروں نے اسے 1974ءمیں”گڈ بائی“ کہہ دیا لیکن ہاکنگ نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
اس نے زندہ رہنے‘ آگے بڑھنے اور اس معذوری کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان بننے کا فیصلہ کیاچنانچہ اس نے ویل چیئرپر کائنات کے رموز کھولنا شروع کئے تو سائنس حیران رہ گئی۔
کیمبرج کے کمپیوٹر سائنسدانوں نے ہاکنگ کیلئے ”ٹاکنگ“ کمپیوٹر بنایا‘
یہ کمپیوٹر اس کی ویل چیئر پر لگا دیا گیا‘ یہ کمپیوٹر اس کی پلکوں کی زبان سمجھتا ہے‘ سٹیفن اپنی سوچ کو پلکوں پر شفٹ کرتا ہے‘ پلکیں ایک خاص زاویے اور ردھم میں ہلتی ہیں‘ یہ ردھم لفظوں کی شکل اختیار کرتا ہے‘ یہ لفظ کمپیوٹر کی سکرین پر ٹائپ ہوتے ہیں اور بعدازاں سپیکر کے ذریعے نشر ہونے لگتے ہیں چنانچہ سٹیفن ہاکنگ دنیا کا واحد شخص ہے جو اپنی پلکوں سے بولتا ہے اور پوری دنیا اس کی آواز سنتی ہے۔
سٹیفن ہاکنگ نے پلکوں کے ذریعے اب تک بے شمار کتابیں لکھیں‘ اس نے ”کوانٹم گریوٹی“ اور کائناتی سائنس (کاسمالوجی) کو بے شمار نئے فلسفے بھی دئیے‘ اس کی کتاب ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ نے پوری دنیا میں تہلکا مچا دیاتھا‘ یہ کتاب 237 ہفتے دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب رہی اوردنیا بھر میں ناول اور ڈرامے کی طرح خریدی اور پڑھی گئی۔
سٹیفن ہاکنگ نے 1990ءکی دہائی میں ایک نیا کام شروع کیا‘ اس نے مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتیوں کے بارے میں لیکچر دینا شروع کئے‘ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں‘ ادارے اور فرمز ہاکنگ کی خدمات حاصل کرتی ہیں‘
ہاکنگ کی ویل چیئر کوسینکڑوں ‘ہزاروں لوگوں کے سامنے سٹیج پر رکھ دیا جاتا ہے اور وہ کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں کو بتاتا ہے
”اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں
‘‘اگر میں میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں‘
اگر میں موت کا راستہ روک سکتا ہوں تو تم لوگ جن کے سارے اعضاءسلامت ہیں
‘ جو چل سکتے ہیں‘
جو دونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے‘
جوکھا پی سکتے ہیں‘
جو قہقہہ لگا سکتے ہیں اورجو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں.

Stephen Hawking is the greatest scientist in the world

Stephen Hawking is the greatest scientist in the world since that time stayn Constitution.
This is known as the most intelligent person in the world
“God Almighty, the Wise was fourteen hundred years ago, the universe is incomplete and lead to the Daily Planet.
This theory is proved by Stephen Hawking.
He is born a “black hole” discovered a new planet in the universe daily.
He also discovered a black hole radiation, which are causing major changes in the universe, it is appropriate Stephen Hawking radiation are called “Hawking rydaysn”
He is expert in physics and mathematics and all scientists of the world are considered the guru but it is just one aspect of her life.
His original perfection that takes her illness she MSc up was an ordinary middle-class student, was fond of jumping play he participated in sailing competitions were playing soccer ran cycle and daily the race takes about five kilometers. He was a PhD from Cambridge University in 1963.
He slipped down a staircase, was taken to the hospital and called the medical examiner said they found it in the most complex disease “motor neuron disease” disease medical language “of LSD.” .
The disease is related to the heart are small muscles of the heart, the muscles used to consider our body to control this disease before revealing scientist brain human driver but at the beginning of the twentieth century ” the LSD “detected no brain center of human life, but the heart of the world’s first patient came right at the heart of all religion should concentrate the mind.
Heart muscle called the “motors” if “all the members of the motors ءayk begin to die,” the man takes leave with a man sees himself and slowly die. The SLE patient’s life is two to three years of arrival, no cure has not been discovered yet in this world.
Stephen Hawking was infected 21 years old, first had paralyzed hand fingers, then hands, then his arms, then his upper torso, then his feet, then his legs and at the end of her tongue left him.
He was confined to a wheelchair 1965, then his neck and could not be rolled back from the right side. Until 1974, he was dependent on others for food and washroom.
The only plkunmyn present in the body, it can only shake eyelids, doctors told him in 1974 in “Good Bye” But Hawking has refused to concede defeat.
He was alive, despite the inability to move forward and become the greatest scientist in the world kyacnanch he started opening codes Val cyyrpr universe surprised.
Cambridge computer scientists have made a “talking” computer Hawking
It was given this computer understands the language of the eyelids, Stephen’s shift lashes thinking ‘eyelids are moving in a certain angle and rhythms of this form of rhythm words on the computer wheelchair.
Stephen Hawking to write so many books through the lashes, the “quantum gravity” and cosmic science (kasmalujy) numerous given the new philosophy of the book “A Brief History of Time,” his traveling had an impact around the world “This week, bought the 237 novels and plays in the world and the world’s best seller book was read.
Stephen Hawking started a new job in the 1990s, it would have disappointed the people began to lecture about the life of beauty, the large companies, institutions and firms hawking services.
Hawking’s wheelchair kusynkrun is placed on the stage in front of thousands of people and he tells people via computer
“If I can succeed despite disability
‘If I can beat medical science.
If I can stop all of you who have aazaءslamt
Those who can walk.
Who can work with both hands
Statements can drink ‘
Why are frustrated they can laugh and those who can reach all your ideas to other people.

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Share.