جے آئی ٹی کو 10 جولائی تک حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم

23

پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کی طرف سے 2 کتابوں پر مشتمل سیلڈ رپورٹواجد ضیا نے پیش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم کے صاحبزادوں  حسن نواز اور حسین نواز کے بیانات کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے واجد ضیا سے استفسار کیا کہ کیا ایس ای سی پی اور ایف بی آر نے ریکارڈ فراہم کر دیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی نے کچھ ریکارڈ فراہم کیا ہے جبکہ ایف بی آر نے تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کیا، تین بار وضاحت مانگی گئی لیکن جواب ملا کہ ریکارڈ موجود نہیں، مکمل ریکارڈ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ ریکارڈ نہ ملنے کا معاملہ نوٹس میں کیوں نہیں لایا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایسا نہیں چلے گا، اگر ایف بی آر کے پاس ریکارڈ نہیں تو بتا دیں کہ ریکارڈ چوری ہو گیا، گم ہو گیا یا کوئی اور لے گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ کو کیوں بار بار بلانے کی ضرورت پڑ رہی ہے، ہم نے اداروں کو سپریم کورٹ کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا تھا تو ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کیوں تعاون نہیں کرتے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی دستاویزات کی فہرست فراہم کرے کوشش کروں گا کہ تمام ریکارڈ فراہم کروں۔

واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر کو واضح کر دیا تھا کہ کونسا ریکارڈ چاہیئے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو ریکارڈ مانگا اس کی تفصیل پیش کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ریکارڈ ٹمپرنگ کی انکوائری شروع ہو چکی ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا جی انکوائری شروع ہو چکی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے دوبارہ پوچھا کہ انکوائری میں کتنا وقت لگے گا، اٹارنی جنرل نے جواب دیا زیادہ وقت نہیں لگے گا صرف ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے، ریکارڈ موجود ہوا تو ضرور ملے گا کیونکہ ریکارڈ صرف مخصوص وقت کا مرتب رکھا جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات ایف بی آر نے عدالت کو کیوں نہیں بتائی، ایف بی آر معاملے پر خاموش کیوں بیٹھا ہے، جے آئی ٹی ایف بی آر سے مطلوبہ دستاویزات کی فہرست کل تک جمع کرائے۔ عدالت نے جے آئی ٹی سے 10 رپورٹ تک حتمی رپورٹ طلب کر لی۔

سپریم کورٹ نے تصویر لیکس کے معاملے پر رپورٹ اور شخص کا نام پبلک کرنے سے متعلق وفاقی حکومت سے موقف طلب کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ کیا وجوہات ہیں تصویر لیک کرنے والے کا نام سامنے نہیں لایا گیا، جس پر واجد ضیا نے بتایا کہ صرف سکیورٹی وجوہات کی بناء پر تصویر لیک کرنے والے کا نام رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں ایف بی آر کی جانب سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی شکایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے جے آئی ٹی کو ایف بی آر سے تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ ریکارڈ، قانون اور کتابوں کو مدنظر رکھ کر دیا جاتا ہے، فیصلہ کرتے ہوئے اخبارات کو نہیں دیکھتے۔

واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا کی زیر صدارت پاناما کیس کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کا 43 واں اجلاس گزشتہ روز وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا جس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تیسری کار کردگی رپورٹ مرتب کر کے اسے حتمی شکل دی تھی۔

Facebook Comments